ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرکاری اسپتالوں کی بے پروائی ۔ڈینگیو بخار میں مبتلا لڑکی چار گھنٹوں تک ایمبولینس میں پڑی رہی

سرکاری اسپتالوں کی بے پروائی ۔ڈینگیو بخار میں مبتلا لڑکی چار گھنٹوں تک ایمبولینس میں پڑی رہی

Thu, 02 Nov 2017 19:56:33    S.O. News Service

اڈپی 2؍نومبر(ایس او نیوز) ڈینگیو بخار میں مبتلا ایک لڑکی کو اڈپی اور منگلورو کے سرکاری اسپتالوں میں داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے سنگین حالت کے باوجود چار گھنٹے ایمبولینس میں گزارنے پڑے، بالآخر ایک سماجی خدمت گار کی مداخلت میں مذکورہ لڑکی کو ایک نجی اسپتال میں داخل کروایا گیا ۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق بادمّا نامی لڑکی کو اڈپی کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ دو دن پہلے ڈاکٹروں نے اسے ڈینگیو بخار ہونے کی تشخیص کی اور حالت بہت ہی زیادہ نازک ہوجانے سے مریضہ کو منگلورو کے وینلاک اسپتال میں منتقل کرنے کے لئے 108ایمبولینس کے ذریعے روانہ کردیا۔لیکن منگلورو پہنچنے پر وینلاک اسپتال میں ضروری انتظامات نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے مریضہ کو داخلہ نہیں دیا گیا ۔ مریضہ کے والدین قلی مزدوری کیا کرتے ہیں، ان میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ کسی پرائیویٹ اسپتال میں اپنی بیٹی کا علاج کرواسکیں۔تقریباً چار گھنٹے تک لڑکی ایمبولینس میں ہی پڑی رہی۔ 

لاکھ گڑگڑانے کے بعد بھی وینلاک اسپتال میں داخلہ نہیں دیا گیا توپھر انہوں نے وشنو شیٹی امبلپاڑی نامی ایک سماجی خدمت گار سے رابطہ قائم کیا۔ اس نے اڈپی کے سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں سے تفتیش کی تو اسے بتایا کہ لڑکی کی حالت بہت ہی نازک ہے اور اس کے زندہ رہنے کے آثار بہت کم ہونے کی وجہ سے اس کو منگلورو بھیجا گیا ہے۔ پھر وشنو شیٹی نے ایمبولینس کے ذریعے مریضہ کو واپس اڈپی بلوالیا اور یہاں کے ایک نجی اسپتال میں اپنے ذاتی خرچ پر علاج کے لئے اس کو داخل کروایاہے۔ 


Share: